Showing posts with label Aqwale Zaren. Show all posts
Showing posts with label Aqwale Zaren. Show all posts

Gunah

Pin on Ahadees

Daughter (Beti)



❤❤❤❤❤❤___بیٹی__❤❤❤❤❤❤❤

*ایک بار ایک لڑکی نے امام سید علی خامنہ ای سے کہا کہ آغاایک بات پوچھوں؟؟
 امام سید علی خامنہ ای نے فرمایا بولو بیٹی کیا بات ھے؟؟؟
لڑکی نے کہا ہمارے سماج میں لڑکوں کو ہر طرح کی آزادی ھوتی ہے ! وہ کچھ بھی کریں کہیں بھی جائیں ان پر کوئی خاص روک ٹوک نہیں ہوتی!
اس کے برعکس لڑکیوں کو بات بات پر روکا جاتا ہے 
یہ مت کرو یہاں مت جاو گھر جلدی آجاؤ 
یہ سن کر  امام سید علی خامنہ ای مسکرائے اور فرمایا 
بیٹی آپ نے کبھی لوہے کی دکان کے باہر لوہے کی چیزیں پڑیں دیکھی ہیں ؟ یہ گودام میں سردی،گرمی،برسات،رات، دن اسی طرح پڑی رہتی ہیں 
اس کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگڑتا اور ان کی قیمت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا
 لڑکوں کی کچھ اس طرح کی حیثیت ہے سماج میں!
اب آپ چلو ایک سنار کی دوکان میں
ایک بڑی تجوری اس میں ایک چھوٹی تجوری اس میں رکھی چھوٹی سُندر سی ڈبی میں ریشم پر نزاکت سے رکھا چمچماتا ہیرا
کیونکہ جوہری جانتا ہے کی اگر ہیرے میں ذرا بھی خراش آ گئی تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہے گی 
اسلام میں بیٹیوں کی اہمیت بھی کچھ اسی طرح کی ھے
پورے گھر کو روشن کرتی جھلملاتے ہیرے کی طرح ذرا سی خراش سے اس کے اور اس کے گھر والوں کے پاس کچھ نہیں بچتا 
بس یہی فرق ہے لڑکیوں اور لڑکوں میں 
پوری مجلس میں خاموشی چھا گئی
اس بیٹی کے ساتھ پوری مجلس کی آنکھوں میں چھائی نمی صاف صاف بتا رہی تھی لوہے اور ہیرے میں کیا فرق ہے

Image may contain: 1 person, smiling, outdoor

Character (Kirdaar)


ایک شادی شدہ جوڑے کے گھر کے سامنے نئے پڑوسی آئے اِن کی کھڑکی سے نئے پڑوسیوں کا گھر صاف دکھائی پڑتا تھا یہ شادی شدہ جوڑے کی عورت اپنے نئے ہمسائیوں کی ہر چھوٹی چھوٹی بات کو کھڑکی سے نوٹ کرتی اور اپنے شوہر سے شیئر کرتی۔

ایک دن جب وہ دونوں ناشتہ کر رہے تھے تو بیوی نے کھڑکی میں سے دیکھا کہ سامنے والوں نے کپڑے دھو کر پھیلائے ہوئے ہیں۔ "یہ لوگ کتنے خراب اور گندے کپڑے دھوتے ہیں"، بیوی چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اپنے شوہر سے بولی: "ذرا صاف کپڑے نہیں دُھلے، اِن کی خواتین کو کپڑے دھونے آتے ہی نہیں ہیں، ان کو چاہیے کہ اپنا صابن تبدیل کر لیں، یا کم از کم کسی سے سیکھ ہی لیں کہ کپڑے کس طرح دھوئے جاتے ہیں"۔ شوہر نے نظریں اُٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھا، زیرِ لب مسکرا کر پھر ناشتہ کرنے میں مشغول ہو گیا۔
 

 
اسی طرح ہر بار جب بھی اُن کے پڑوسی کپڑے دھو کر پھیلاتے، اِس عورت کے اُن کے کپڑوں اور دُھلائی کے بارے میں یہی تاثرات ہوتے۔ وہ ہمیشہ ہی اپنے شوہر کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتی کہ "آج پھر ان لوگوں نے کپڑے اچھے نہیں دھوئے", دل چاہتا ہے خود جا کر ان کو بتا دوں کہ کس طرح یہ اپنے کپڑوں کی دھلائی بہتر کر سکتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ !! الغرض اُن کے پڑوسیوں کا گھر اور اُن کے کپڑوں کی دھلائی ہمیشہ ہی اِس عورت کی تنقید کا نشانہ بنے رہتے۔

ایک صبح جب یہ عورت ناشتے کی میز پر بیٹھی تو پڑوسیوں کے صاف سُتھرے دُھلے ہوئے کپڑے دیکھ کر حیران رہ گئی اور اپنے شوہر سے بولی، "دیکھا! بالآخر انہوں نے سیکھ ہی لیا کہ کپڑے کیسے دھوئے جاتے ہیں، شکر ہے کہ آج اُن کے کپڑے صاف ہیں، لیکن مجھے حیرت ہے کہ آخر یہ عقل اُن کو آئی کیسے۔۔۔؟"
پھر شوہر کو مخاطب کرتے ہوئے بولی "شاید انہوں نے کپڑے دھونے کا طریقہ تبدیل کر لیا ہے یا پھر اپنا صابن بدل دیا ہے" اور چپ ہوتے ہی اپنے شوہر کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگی۔
شوہر جو ناشتہ کرنے میں مصروف تھا بیوی کی باتیں سن کر مسکراتے ہوئے، کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، "بیگم! آج صبح میں جلدی اُٹھ گیا تھا اور میں نے اِس گرد سے بھری ہوئی کھڑکی کو اچھی طرح صاف کر دیا تھا، جہاں سے تم سامنے والوں کو دیکھتی تھی"

                 ​​حاصل کلام :! 
بالکل ایسا ہی ہماری روزمرہ زندگی میں بھی ہوتا ہے۔ ہماری اپنی کھڑکی صاف نہیں ہوتی اور ہم دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ خود ہمارے اندر ہوتا ہے لیکن ہمارا اُس طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔​​

کسی کو پرکھنے کا یہ انتہائی بہترین طریقہ ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنی کھڑکی کو دیکھیں، کیا وہ صاف ہے؟ کیونکہ جب ہم کسی کو دیکھتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو اس بات کا انحصار اُس کھڑکی یا ذریعے کی شفافیت پر ہوتا ہے جس سے ہم کسی کو چانچ رہے ہوتے ہیں۔
 
چونکہ انسان خطا کا پتلہ ہے اِس لیے غلطی کا انسان سے صادر ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن دوسروں پر انگلی اُٹھانے سے پہلے اِس چیز کا یقین کر لیں کہ کیا ہم بھی تو اُسی غلطی سے دوچار نہیں ....